ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / ڈی جے ہلی،کے جی ہلی کے نوجوانو ں پرUAPA مقدموں کے جواز کا چیلنج، کرناٹک ہائی کورٹ میں مفاد عامہ عرضی کی سماعت، نوجوانوں کو انصاف کی امید

ڈی جے ہلی،کے جی ہلی کے نوجوانو ں پرUAPA مقدموں کے جواز کا چیلنج، کرناٹک ہائی کورٹ میں مفاد عامہ عرضی کی سماعت، نوجوانوں کو انصاف کی امید

Tue, 22 Dec 2020 09:36:04    S.O. News Service

بنگلورو،22؍دسمبر(ایس او نیوز) شہر کے ڈی جے ہلی اور کے جی ہلی تشدد کے سلسلے میں گرفتار نوجوانوں کی اکثریت کے خلاف پولیس کی طرف سے انسداد غیر قانونی سرگرمی قانون(یو اے پی اے) 1967کی دفعات کے تحت مقدمے درج کئے جانے کا چیلنج کرتے ہوئے کرناٹک ہائی کورٹ میں داخل کی گئی مفاد عامہ عرضی منگل کے روز زیر سماعت آنے والی ہے۔

چیف جسٹس ابھے سرینواس اوکا کی قیادت والی بینچ کے سامنے یہ عرضی سماعت کے لئے آرہی ہے۔ اس عرضی میں پولیس کی طرف سے مقامی سطح پر ہوئے اس تشدد کے سلسلہ میں گرفتار شدہ نوجوانوں کے خلاف سنگین دہشت گردی کے جرائم سے جڑے ملزمین کے حلاف استعمال ہونے والے قانون کی دفعات کے اطلاق کو اس عرضی میں چیلنج کرتے ہوئے اس قانو ن کے ڈی جے ہلی اورکے جی ہلی کے ہنگامے کے سلسلہ میں گرفتار ملزمین کے خلاف استعمال کے جواز پر سوالیہ نشان لگایا گیا ہے اور عدالت سے درخواست کی گئی ہے کہ ملزمین پر جو یو اے پی اے قانون لگایا گیا ہے اس کو ہٹا کر تعذیرات ہند یا سی آر پی سی قوانین میں ہجومی تشدد کے متعلق جو دفعات ہیں ان کے مطابق کارروائی کی جائے۔

رکن کونسل نصیر احمد نے اس ضمن میں بتایا کہ عدالت کی طرف سے مثبت فیصلہ کی امید ہے۔ اگر ہائی کورٹ کی طرف سے گرفتار شدہ ملزمین پر درج یو اے پی اے مقدمات کو ہٹانے کے سلسلہ میں کوئی مثبت فیصلہ سنایا جاتا ہے تو ملزمین کی رہائی میں آسانی ہو سکتی ہے۔ اس سوال پر کہ گرفتارہونے کے بعد گزشتہ تقریباً 5ماہ سے مقید نوجوانوں کو ضمانت دلانے کے لئے کوشش میں لگے بعض وکلاؤ کو پولیس افسروں کی طرف سے تنبیہ دی گئی ہے کہ ملزمین کو ضمانت مل بھی جائے تو ان کو دوبارہ یو اے پی اے کیس کے تحت گرفتار کیا جا سکتا ہے۔

نصیر احمد نے کہا کہ اگرمنگل کے روز ہائی کورٹ کی طرف سے یو اے پی اے کی دفعات کے استعمال کے خلاف فیصلہ آتا ہے تو پولیس حکام کو ان ملزمین پر درج مقدمہ واپس لینے پڑیں گے اور دیگرملزمین پر بھی ان دفعات کے استعمال کی گنجائش نہیں رہے گی۔ اس معاملہ میں بے قصوروں کی قانونی مدد کے لئے کے پی سی سی صدر ڈی کے شیو کمار کی طرف سے تشکیل شدہ کمیٹی میں شامل رکن اسمبلی وسابق وزیر ضمیر احمدخان نے کہا کہ اس بات کی کوشش کی جا رہی ہے کہ اس علاقہ سے جن بے قصور نوجوانوں کو گرفتار کیا گیا ہے ان پر یو اے پی اے کے تحت درج کیس کو جلد از جلد واپس لیا جائے۔ ہائی کورٹ کی طرف سے مثبت فیصلہ کی صورت میں ایک بڑی کامیابی ملنے کی امید ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہائی کور اگر یہ فیصلہ سنادے کہ اس تشدد کے سلسلہ میں گرفتار نوجوانوں پر یو اے پی اے کے تحت کیس درج کرنا درست نہیں تو پھر جلد ہی تمام بے قصور نوجوانوں کو رہائی نصیب ہو سکتی ہے۔ اس کے ساتھ ہی جہاں تک پولیس کے بعض حکام کی طرف سے اس تیاری پر کہ جن کو ضمانت ملے گی ان نوجوانوں کو نئے مقدموں میں پھانسا جائے اس ضمن میں جلد ہی ایک وفد وزیر اعلیٰ بی ایس ایڈی یورپا، وزیر داخلہ بسورارج بومئی اور دیگر اعلیٰ پولیس حکام سے ملاقات کر کے نمائندگی کرے گا کہ اس طرح کی زیادتی نہ ہونے دی جائے۔ ملزمین اگر واقعی قصور وار ہیں تو ان کے خلاف قانون کے تحت کارروائی کرنے پر کسی کو اعتراض نہیں لیکن بے قصوروں کومہینوں ستانے کا سلسلہ جاری رکھا جاری نہ رکھا جائے۔


Share: